حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
(۱) حلاّج کا قتل ہونا

(۱)

حلاّج کا قتل ہونا

افراطى صوفیوں میں سے ایک حسين بن منصور حلاّج تھا كہ جس نے مقتدر کے زمانے (320 - 295) میں خدائی کا دعوی کیا۔ حلاّج كی کنیت ابن مغيث تھی اور وہ بیضاء فارس میں سے ایک مجوسی کا بیٹا تھا کہ جو واسط ہی میں پلا بڑا اور پھر وہ  وہاں سے بغداد چلا گیا کہ جہاں وہ ابو القاسم جنيد اور دوسرے صوفیوں سے جا ملا۔

   کہتے ہیں : اس کا نام حلاج ہو گیا کیونکہ وہ دلوں کے اسرار سے واقف تھا اور وہ کلام کے اصل مقصد کا خارج کر لیتا تھا جیسا کہ حلاّج روئی سے گٹھلیوں کو نکال دیتا ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ واسط میں ایک ‏حلاّج کی دکان میں بیٹھا کرتا تھا۔ دکاندار کسی کام سے باہر گیا اور جب واپس آیا تو اس نے اپنی تمام روئی کو حلاّجى ‏شده دیکھا کہ جو بہت زیادہ مقدار میں تھی اور اسی دن سے اسے حلاّج کہا جانے لگا۔

   حلاّج ابتداء میں تصوّف کی جانب راغب ہو گیا اور وہ زیادہ تر شطحات پر مبنی گفتگو کیا کرتا تھا یعنی اس کی باتوں کے دو پہلو ہوتے کہ جس سے اچھے اور برے دونوں معنی اخذ کئے جا سکتے تھے۔ اس کی روش اور طریقۂ کار کے بارے میں لوگوں میں اختلاف تھا بعض لوگ اس کی حد سے زیادہ تعظیم کرتے تھے اور دوسرا گروہ اسے کافر سمجھتا تھا اور ظاہری طور پر اس میں زہد و تصوّف نظر آتا تھا۔ اگر وہ کچھ لوگوں کو اعتزالی عقیدہ پر عمل پیرا دیکھتا تو وہ بھی معتزلی ہو جاتا اور اگر دیکھتا کہ لوگوں کا عقیدہ امامی ہے تو وہ بھی امامی ہو جاتا اور امامیہ عقائد کے بارے میں بات کرتا اور سنّی لوگوں کے ساتھ وہ بھی سنّی ہو جاتا۔

   حلاج کی عجیب راہ و روش تھی۔ کبھی وہ پشمينه پہنتا تھا اور کبھی رنگین لباس پہنتا تھا، کبھی سر پر بہت بڑا عمامہ رکھتا اور کبھی عمامہ کے بغیر ننگے سر صرف قبا پہن کر ہی باہر آ جاتا۔ اس نے بہت زیادہ سفر کئے اور اس دوران ہندوستان،  خراسان ، ماوراء النہر ، تركستان اور دوسرے ممالک میں بھی گیا۔

   اس کے دوستوں میں سے ایک کا بیان ہے کہ : ایک سال میں اس کے ساتھ مكّه گیا اور حج کے بعد جب حجاج واپس عراق آ گئے تو وہ وہیں مقیم رہا اور پھر اس نے کہا کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ یہاں سے ہندوستان کی طرف جاؤں اور پھر وہ بحری راستہ سے ہندوستان کی طرف روانہ ہو گیا جب کہ  میں بھی اس کے ہمراہ تھا۔ جب ہم ہندوستان پہنچے تو اس نے ایک عورت کا پتہ کیا اور اس کے پاس چلا گیا اور اس نے اس سے کوئی گفتگو کی اور اگلے دن دونوں میں یہ طے پایا کہ وہ ایک ساتھ دریا کی طرف جائیں گے۔ اس عورت کے پاس دھاگہ اور سیڑی کی مانند کوئی چیز تھی ، اس عورت نے کچھ پڑھا اور وہ وہ اس کے اوپر چلی گئی اور پھر ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ حلاّج واپس آ گیا اور اس نے کہا: میں اسی عورت کو ملنے کے لئے ہندوستان آیا تھا۔

  حلاّج نے یہ شعبدہ بازی وغیرہ ہندوستان سے سیکھی تھی کہ جو اس کے پاس آنے والے عام لوگوں کی عقل پر بہت اثر انداز ہوئی اور وہ اس کی طریقت کی مائل ہو گئے۔

   بعض لوگ کہتے ہیں : وہ مفرطی مذہب کی دعوت دیتا تھا کہ جو ان ایّام میں ابو طاہر جنابی کے ذریعہ رائج تھا۔

   اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ : ابتداء میں حلاّج لوگوں کو ایسے شخص کی طرف دعوت دیتا کہ جو خاندان ‏محمّد صلى الله عليه و آله و سلم کے مورد رضائیت  ہوتے۔ بہرحال وہ اپنی مہارت سے عام لوگوں کو اپنی طرف جذب کرلیتا تھا۔ کبھی وہ راستہ میں گڑا کھودتا اور کسی برتن میں میں پانی بھر کر اس میں رکھ دیتا اور دوسرے گڑے میں کھانے کی اشیاء رکھ دیتا اور جب وہ وہاں سے اپنے ساتھیوں کے ساتھ گذرتا اور پانی کی ضرورت ہوتی تو وہ اپنی عصاء سے پہلا گڑا کھودتا اور وہاں سے پانی جاری ہو جاتا تا کہ لوگ اسے پئیں اور اس سے وضو کریں، اس کے بعد جب دوسرے گڑے پر پہنتا تو اسے بھی اپنی عصا سے کھودتا اور وہاں سے کھانے کی اشیاء مل جاتیں۔ اس کے ساتھی اسے اولیاء کی کراممات سمجھتے تھے۔ لوگوں کو اپنی طرف جذب کرنے کے لئے اس کے پاس اور بھی بہت سے طریقے تھے۔ وہ پھلوں کو مختلف طریقوں سے محفوظ کرلیتا تھا اور جب اس پھل کا موسم نہیں ہوتا تھا  تو وہ پھل نکال کر لوگوں کو دیتا تھا اور  لوگ اس عمل کو بھی اس کی کرامات شمار کرتے تھے...۔

    حلاّج نے کچھ کتابیں بھی لکھی تھیں کہ جن میں اسلام کے خلاف مطالب موجود تھے ؛ منجملہ یہ کہ اگر کوئی شخص اپنے گھر میں مربع کی شکل میں کوئی عمارت بنائے اور حج کے ایّام میں مناسک حج  انجام دے، تیس یتیموں کو کھانا کھائے ، انہیں لباس دے اور ہر ایک کو سات درہم دے تو گویا اس نے حج انجام دیا ہے۔

   نیز اس کا یہ کہنا تھا کہ : جو شخص ماہ رمضان میں تین دن تک بغیر افطار کئے روزہ رکھے اور چوتھے دن روزہ افطار کرے تو گویا اس نے پورا مہینہ روزے رکھے لہذا وہ ماہ رمضان کے بقیہ دنوں روزہ نہ رکھنا چاہے تو روزہ نہ رکھے۔

   اسی طرح اس کا یہ کہنا تھا کہ : جو شخص رات سے سحر تک دو رکعت نماز کو طول دے تو اس سے پوری زندگی کے لئے نماز اٹھا لی جائے گی۔ اور اگر کوئی ایک دن اپنا سب کچھ زکات میں دے دے تو اس کے بعد اس پر کبھی زکات واجب نہیں ہو گی۔

   اور اس کا یہ خیال تھا کہ : اگر کوئی قریش کی قبروں پر جا کر شہداء کی زیارت کرے اور وہاں دس دن تک نماز اور روزہ وغیرہ میں زندگی بسر کرے اور جَو کی روٹی اور نمک سے افطار کرے تو اس سے ہر قسم کی شرعی ذمہ داری برطرف ہو جائے گی اور پھر اس پر کوئی عبادت واجب نہیں ہو گی۔

   حلاّج ایک کرتب دکھانے والا اور شعبده ‏باز تھا۔ وہ طب اور کیمیا میں بھی مکر و حیلہ سے کام لیتا اتھ اور عوام کو اپنی طرف راغب کرتا تھا اور  پھر خدائی کا دعویٰ کرتے ہوئے حلول کے بارے میں گفتگو کرتا تھا۔ اس نے خداوند متعال پر بہتان عظیم لگائے۔ اس کے کچھ ایسے نوشتہ جات ملے ہیں کہ جو حماقت پر مبنی ہیں اور جن میں اس نے برملا کفر کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا: میں وہ ہوں کہ جس نے قوم نوح کو غرق کیا، میں وہ ہوں کہ جس نے قوم عاد و ثمود کو نابود کیا، وہ ایسی ہی باتیں کرتا تھا اور اپنے ساتھیوں سے کہتا تھا : تم نوح ہو، تم موسیٰ ہو، اور تم محمد ہو کیونکہ ان کی ارواح تمہارے بدن میں آ چکی ہیں۔

   اس کے نادان پیروکار سمجھتے تھے کہ حلاّج ان کی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے اور ہوا کے ذریعے ان کی طرف واپس آ جاتا ہے۔

   جلد ہی حلاج کی دعوت عام ہو گئی اور بغداد ، طالقان اور خراسان میں بہت سے لوگ اس کے پیروکار پيروان بن گئے۔ اہل سنت نے اسے بہت بڑا خطرہ محسوس کیا اور اسے کفر اور حلول گری سے منسوب کر دیا۔ انہوں نے اس سے نقل کیا ہے کہ جو کوئی بھی اطاعت کرے اور شہوت کی لذت سے دور رہے وہ مقربین کے درجے پر فائز ہوتا ہے اور پھر وہ اس طرح سے پاکیزہ صفت ہوتا کہ اس میں انسانیت کا شائبہ بھی نہیں ہوتا اور جب اس میں انسانی شائبہ بھی باقی نہ رہے تو پھر اس میں خدائی روح حلول کرتی ہے کہ جس نے عیسیٰ بن مریم میں حلول کیا تھا، اور پھر وہ شخص جس چیز کا بھی ارادہ کرے وہی انجام پاتی ہے اور اس کے تمام کام ، خدا کے کام بن جاتے ہیں ۔ انہوں نے یہ خیال کیا کہ وہ اس مقام کا دعویٰ کر رہا ہے۔

   نیز انہیں اس کے کچھ خطوط بھی ملے کہ جو اس نے اپنے پیروکاروں کو لکھے تھے: خداؤں کے خدا ھوھو کی طرف سے (کہ جو کسی بھی شکل و صورت میں جلوہ گر ہو سکتا ہے) اس کے فلاں بندے کے لئے۔ اسی طرح کچھ ایسے خطوط بھی ملے کہ جو اس کے پیروکاروں نے اسے لکھے تھے: اے ذات ذات ! اور تمام مقاصد کی انتہا! میں گواہی دیتا ہوں تو ہر زمانے میں کسی بھی صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے اور ہمارے زمانے میں تو حسین بن منصوری کی صورت میں جلوہ گر ہوا ہے اور اے غیب کو جاننے والے ہم تیری میں آتے ہیں اور تیری رحمت سے وابستہ ہوتے ہیں۔

 حلاج کی پذیرائی صرف عوام تک ہی محدود نہ رہی بلکہ درباری حضرات، رؤسا اور ہاشمی خاندان کے بعض بزرگوں کے دل بھی اسی کے ساتھ تھے۔ مقتدر کا حاجب نصر اور اس کے ساتھیوں کو بھی ‏حلاّج کی پیروی سے ےمنسوب کیا جاتا تھا اور ان کا خیال تھا کہ ‏حلاّج مردوں کو زندہ کرتا ہے اور جنّات اس کی خدمت کرتے ہیں اور وہ جو چیز بھی چاہے اس کے لئے فراہم کرتے ہیں اور اس کے پاس تمام پیغمبروں کے معجزات ہیں اور بالاخره وہ لوگ اس کی خدائی کے معتقد تھے اور اس کے پیروکاروں میں سے ایک کو نبوت کے مقام تک لے گئے۔

  حلاّج کی تبلیغ کرنے والے اکثر اسلامی شہروں میں پراکندہ تھے اور وہ اسماعیلیوں کی طرح دعوت کرتے تھے۔ ابن مسكويه نے ذکر کیا ہے کہ اس کے مکتوبات میں کچھ ایسے خطوط بھی تھے کہ جن میں اس نے اپنے مختلف شہروں میں اپنے ساتھیوں کو حکم دیا تھا کہ کس طرح سے لوگوں کو دعوت دی جائے اور قدم بہ قدم آگے بڑھیں تا کہ اپنے مقصد تک پہنچ سکیں اور ہر گروہ کے ساتھ اس کی عقل کے مطابق بات کریں۔ نیز کچھ ایسے جوابات بھی تھے کہ جو اس کے پیروکاروں نے اسے بھیجے تھے اور تمام خطوط اسرار و رموز میں لکھے گئے تھے تا کہ لکھنے اور پڑھنے والے کے سوا کوئی بھی اس کے معنی نہ سمجھ سکے۔

   حلاّج خدائی کا دعویٰ کرتا تھا اور کہتا ہے : لاہوت انسان میں نفوذ کرتا ہے۔ نیز اس نے اپنے ساتھیوں کو لکھے گئے خط میں کچھ یوں لکھا تھا: نور شعشعانى کی جانب سے۔

   نیز اس سے یہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ اس نے کہا: یہاں خدا کے سوا کوئی نہیں ہے اور خدا سے اس کی مراد وہ خود تھا۔ اور اسی طرح اس سے یہ بھی سنا گیا ہے کہ اس نے کہا تھا : حق میں ہوں اور وہ ہمیشہ اس معنی پر مبنی شعر پڑھا کرتا تھا کہ : میں معشوق ہوں اور معشوق ہوں میں ، ہماری دو روحیں ہیں کہ جو ایک بدن میں آئی ہیں اور چونکہ تم نے مجھے دیکھ لیا تو  گویا اسے دیکھ لیا اور چونکہ اسے دیکھ لیا تو گویا تم نے مجھے دیکھا ہے۔ اور اس کے پیروکار معتقد تھے کہ و اسراز و رموز کو جانتا ہے اور وہ کشف شہود کے مقام پر فائز ہے۔ اس نے اس معنی میں شعر بھی کہے تھے :

اہل وجد کے وجد کا سرچشمہ میرا  وجد ہے اور رازداروں کے اسراد میرے سامنے فاش ہیں۔

   چوتھی صدی کے آغاز میں حلاّج کا خطرہ مزید بڑھ گیا لہذا اسے سنہ ۳۰۱ ہجری میں بغداد میں گرفتار کر لیا گیا جب کہ اس پر خدائی اور حلول کرنے کے دعویٰ کا الزام تھا حالانککہ علی بن عیسی وزیر اس کے جہل کو قرآن اور علوم دین سمجھتا تھا اور نصر حاجب نے بھی اس کا دفاع  کیا اور کہا: یہ رافضی ہیں کہ جو حلاّج پر‏ كفر اور دین کے خارج ہونے کا الزام لگا رہے ہیں۔

   علىّ بن عيسى کا یہ خیال تھا کہ حلاّج خارق العاده قوت کا مالک ہے کہ جو اسے تکلیف پہنچا سکتی ہے جس کی وجہ سے وہ اسے قتل کرنے سے خوفزدہ ہو گیا اور اسے آزاد کر دیا۔

   کافی مدت کے بعد حامد بن عبّاس وزير (کہ جس کے دل میں حلاّج کے لئے کراہت تھے) نے اسے مٹانے کا فیصلہ کیا اور اپنی بہو کو اس کی جاسوسی پر لگا دیا اور اس نے حلاّج کے خلاف شہادتیں اکٹھی کیں ، نیز اس نے حلاّج کی کتابیں لے کر بھی پڑھیں کہ جس سے اس کا کفر اور باطل ہونا کھل کر سامنے آیا گیا۔ پھر بزرگوں کی ایک مجلس تشکیل دی گئی کہ جس میں اس سے مناظرہ کیا گیا اور اس کے مذہب کو باطل قرار دیتے ہوئے اس کے کفر کا فتویٰ دیا اور اس کے خون کا جائز شمار کیا گیا۔ خلیفہ نے حکم دیا کہ اسے ہزار تازیانے مانے کے بعد تختۂ دار پر لٹکا دیا جائے اور اس کے لاش کو جلا کر اس کی راکھ دریائے دجلہ میں بہا دیا جائے۔

   لیکن اس کے ساتھیوں کا یہ ماننا تھا کہ اسے قتل نہیں کیا گیا اور نہ ہی اسے تختۂ دار پر لٹکایا گیا ہے بلکہ ان سے غلطی سرزد ہو گئی اور جسے تختۂ دار پر لٹکایا گیا وہ حلاّج کا دشمن تھا کہ جسے نے اسے اپنے روپ میں ڈھال دیا تھا۔ نیز انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اس واقعہ کے بعد بھی حلاّج کو دیکھا ہے اور اسے سے گفتگو کی ہے اور وہ کہتے تھے کہ ہم نے اسے ایک گدھے پر دیکھا کہ جس نے کہا کہ ان کے خیال میں میں قتل ہو گیا ہوں لیکن میں قتل نہیں ہوا۔

   اور چونکہ اسی ہفتہ کے دوران دریائے دجلہ میں طغیانی آ گئی تو انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ طغیانی حلاج کی راکھ کی وجہ سے ہے کہ جسے دریا میں بہا دیا گیا تھا۔

   ابوعمرو بن حيويه کا بیان ہے کہ: جب حلاج کو قتل کرنے کے لئے لے جایا جا رہا تھا تو میں بھی ان لوگوں کے ساتھ گیا اور بڑی مشکل سے اس کے قریب پہنچ گیا ، جب کہ وہ اپنے ساتھیوں سے کہہ رہا تاھ: ڈرو نہیں! میں تیس دن کے بعد تمہارے پاس واپس آ جاؤں گا۔

  حلاج کی موت سے بھی اس کا خطرہ نہ ٹلا ۔ اس کے جذبہ اور اس کی حالت کو دیکھنے والے عوام میں سے اکثر افراد اس  کے قائل ہو گئے اور انہوں نے اس کی خدا کی سامنے سر جھکا دیا۔ غزالی نے بھی اس کا دفاع کیا اور اس کی باتوں کی نیک تأویل کی۔ بہرحال حلاج کا واقعہ حکومت کے لئے پریشانی کا کا باعث تھا کہ جس کی وجہ سے سختی سے یہ اعلان کیا گیا کہ کوئی شخص بھی حلاّج کی کتابوں کی خرید و فروخت نہ کرے۔ حلاّج کی گرفتاری سنہ 309 ہجری میں عمل میں آئی اور اسی سال اسے قتل کر دیا گیا۔ (1)


1) تاريخ سياسى اسلام (ڈاکٹر حسن ابراہيم ‏حسن): 3 / 571.

 

منبع: کتاب معاويه ج ... ص ...

 

 

مراجعین : 1081